لہجہ
Poet: افنان وٹو By: افنان وٹو, Lahoreتھوڑا دل دکھے گا سو معذرت
آپ ہی کے لہجے میں بات ہو گی
کچھ شکوے اور شکایتیں کچھ آپ کی عنایتیں
بے سلسلہ سی اس گفتگو میں شاید آج ہم کو بھی رات ہو گی
اہل ضمیر سے ہوں میں مجھے بے رخی سے نہ شکست دے
بے رخی نہیں حیا ہے گر تو پھر تو یہ بھی سوغات ہو گی
کبھی نہیں لوں گا منہ موڑ لوں گا شاید عشق کرنا بھی چھوڑ دوں گا
خودی کو گر میری ٹھیس پہنچی تو عشق نہیں یہ خیرات ہو گی
فاصلے ہیں بد گمانیاں ہیں کچھ مستقل پریشانیاں ہیں مگر
لاشعور میں بھی یہ گماں نہیں مجھے عشق میںں کبھی مات ہو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






