لیکن
Poet: Rukhsana Noor By: Shazia Hafeez, Attockاسی لئے تو
کہا تھا میں نے
لمبی مسافت پر چل پڑی ہوں
طویل تر
چاہتوں کی خاطر
بہت زیادہ، مجھے چاہتوں کا
دینا نہ تحفہ
کیونکہ تیری
یہ لمحہ لمحہ اذیتوں کا
الجھنوں کا
گہرا سمندر مجھے سے ہی منسلک ہے
اسے پاٹ لینا
طویل تر چاہتوں کی خاطر
اپنے جیون کے چند دن تم
مجھ سے اپنے سکوں کی خاطر
الگ کر لو
الگ رہو گے تو پیاس میں پھر
پانیوں کی چاہتیں اور
خوشبو دوبارہ سے جی اٹھے گی
آواز دینا
میں لوٹ کر
آجاؤں گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






