لے آئی ہم کو کہاں یہ اوس کی شائستگی

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

لے آئی ہم کو کہاں یہ اوس کی شائستگی
کہ چھائی ہے سر پہ بے خودی ہی بے خودی

اُگلوا کے دل کی چاہت مار گئے وہ منہ پہ
ہمیں تو لے ڈوبی ہمارے پیار کی وابستگی

میں نے کب کہا کہ تُو میرا ہے
یہی تو ہے بس دل خانہ خراب کی بے بسی

میں نے سمیٹنا چاہا ہے دشتِ اُمنگ کو مگر
میرے وجود سے بڑھ کر ہے سامانِ بے چارگی

منہ موڑا ہے جب سے اُس نے میری محبت سے
ہوئے خواب اور بھی حسیں‘ ملی ہر خوشی

موجود ہوں آفاق میں تو یہ احسان ہے تیرا
ورنہ ہم کہاں دیکھ پاتے یہ رنگینئ زندگی

ہم اُجڑے ہیں شاید اب تک حکمتِ احمقانہ سے
باطل کو سچ کہا اور حقیقت کو توہم پرستی

Rate it:
Views: 517
28 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL