لے آئے
Poet: Rasheed Hasrat By: رشید حسرت, Quettaتمہارے واسطے ہم توڑ کر مہتاب لے آئے
محبت پر سجائے کو نئے اعراب لے آئے
سلیقہ تو نہیں ہم کو مگر دیکھو قرینے سے ہمیں تعبیر دو آنکھوں میں چن کر خواب لے آئے
ہم ان کے بِیچ ثالث تھے کہ ان کا تصفیہ ہو گا
بہت بے آبرو ہوتے رہے، القاب لے آئے
دغا کی بات چل نکلی تھی یاروں میں ذرا پہلے
تصور میں ہم اپنے دور کے احباب لے آئے
تمہاری بزم کو مطلوب تارے تھے کئی دن سے
نہیں کچھ کر سکے بے نام سے اسباب لے آئے
ہماری راہ کی دیوار بنتے جا رہے تھے یہ
لپٹ کر رہ گئے تھے پاؤں سے گرداب، لے آئے
انہیں معلوم تھا چڑ ہے ہمیں بوسیدہ چیزوں سے
جبھی تو زخم چن چن کر بڑے شاداب لے آئے
گئے تھے اس نگر اک شخص کے برباد کرنے کو
مگر ہم تو وہاں سے پیار کے آداب لے آئے
ہمیں لگتا ہے آہیں بے کسوں کی کیا بگاڑیں گی
یہ آنسو ہی تو حسرتؔ دیکھ لو سیلاب لے آئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






