مائی مہنگائی
Poet: سمیع خان By: سمیع خان, Lahore .Pakistanمراعات تم نا چھوڑو زور ہے عوام پر
مہنگائی بم گرا ہے نہتے عوام پر
لعنت ہو اے حکمراں تیرے نظام پر
فاقوں سے جو مر گئے خبر گیری تو اسکی کر
جمہوریت کی نظر ہے سول نظام پر
جس کو بھی ملا اس نے بنایا اپنا گھر
ڈار ہو یا ترین سب نے بنائی محل اپنے نام پر
برباد ہوئے آدم تیرے اعتبار پر
تو خوش ہو ا آدم کے آنسو نکال کر
چرسی تو پی رہا ہے فقط جام سمجھ کر
دے کر زوال لایا آدم کو اس مقام پر
کیسے دی ہے تم نے ایسے لوگوں کو اقتدار
جس نے کی ظلم ہر خاص و عام پر
اس ظالم کی بات پر کرنا نا اعتبار
رکھے جو یہ ہاتھ بھی خدا کے کلام پر
اب تک دلیل دیتا ہے اپنے دفاع میں
لعنت ہے تیری ذات پر تیرے آل پر
مفلسی تھی خاموش بنی وہ خودکشی جان کر
جوں تک نا رینگتی ہے ایسے آدم کے حکمران پر
گھر گھر میں ہورہی ہے یہ لڑائی
مل کر گھر کو بنانا ہے اسی میں ہے تمہاری بھلائی
خوشیوں کو بچانا رشتوں کو پہچان کر
نا رو تو ابن آدم صبح کو شام جان کر
طلوع آفتاب کو ہونا ہے شام غروب جان کر
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






