ماضی کے سمندر میں اتروں تو آنکھ بھر آتی بے

Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabad

ماضی کے سمندر میں اتروں تو آنکھ بھر آتی بے
حال بھی اب جو دیکھوں تو آنکھ بھر آتی ہے

گزری یادوں کی آ گ میرے دل پے یوں برستی ھے
جلتے ہوئے غم میں جو سلگھوں تو آنکھ بھر آتی ہے

کچھ کہنا تو دور لکھنے کی بھی ھمت نہیں شاید
شاعری میں لفظ کوئی لکھوں تو آنکھ بھر آتی بے

گزرے ہوئے پل نا جانے کیوں چھوڑتے نہیں بیچھا
خط جو پرانے پڑھوں تو آنکھ بھر آتی ہے

مصروف رہتا ہوں میں صبح سے شام تک مگر جونہی
قدم چوکھٹ پے رکھوں تو آنکھ بھر آتی ہے

ھر چہرے پے لکھی یہاں کوئی نا کوئی داستاں ہے
کوئی چہرہ جو میں پڑھوں تو آنکھ بھر آتی ہے

کیوں ہو گیا ہوں حساس میں جانے کیوں آخر
بات کروں شروع کوئی تو آنکھ بھر آتی ہے

ان گلیوں سے میرا تعلق اب راہگیر سا ہے
مگر جب بھی وہاں سے گزروں تو آنکھ بھر آتی ہے

ہزاروں موسم آتے ہیں میرے دل کی دنیا میں تنویر
ویسے میں جب بھی ہنسوں تو آنکھ بھر آتی ہے
 

Rate it:
Views: 829
20 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL