مالکِ قسمت اُس سے دُھوری ترا فیصلہ نا منظور
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمالکِ قسمت اُس سے دُھوری ترا فیصلہ نا منظور
سفرِ عشق میں بچھڑنا ضروری ترا فیصلہ نا منظور
دعاؤں کی ڈور سے باندھ کے لایا ہوں پاس اپنے
اتنے قریب سے توٹے ڈوری ترا فیصلہ نا منظور
عدالتِ عشق میں وکلا لاؤنگا میں وفاؤں کے
وصالِ جاناں کو نامنظوری ترا فیصلہ نا منظور
دل پہ پتھر رکھ کے میں نے کیا صبر ہے کہی سال
بے بسی اب کوئی مجبوری ترا فیصلہ نا منظور
پھر سے 12 سال غلامی پھر سے ٹھوکریں پھر سے ہار
جناب! خدمت کی یہ مزدوری ترا فیصلہ نا منظور
میں نے عمر گزاری تری چوکھٹ پہ بے بسی و مفلسی میں
تری مجھ پہ یوں بے غوری ترا فیصلہ نا منظور
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






