مانا کہ میری ڈور ہے ترے ہاتھ میں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaمانا کہ میری ڈور ہے ترے ہاتھ میں
کیا یونہی نچائے گا تو مجھے حیات میں
اگرچہ میں ترا ہوں تو میری بھی سن
کیوں حکم ہوتا ہے ترا ہر بات میں
مانا کہ تری ایجاد ہے وجود آدم کا
غلام بنا رکھا ہے تو نے ہمیں کائنات میں
بنا کے اشرف المحلوقات مجھے بھیج دیا
مگر نہ دیا کچھ میرے اختیارات میں
نہ کوئی شکوہ ہوتا تری کارسازی سے
اگر جان نہ ڈالتا تو میرے جذبات میں
سارے دن کی مشکت کی مہ پی پی کے
سو جاتا ہوں مدہوش ہو کے رات میں
خدایا! کر دینا معاف اِس گستاخی کو
گر نہالؔ کی الجھنیں شامل ہیں شکایات میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






