مانگا ہے نگاہوں سے مرا ہاتھ ، ستمگر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا
دنیا کے جھمیلے میں ملاقات ، ستمگر
مانگا ہے نگاہوں سے مرا ہاتھ ، ستمگر
گہرا ہوا جاتا ہے یہاں شام کا سایہ
کٹ جائے نہ پھر ایک یہاں رات ، ستمگر
جب فون پہ دیتے ہو مجھے جھوٹے دلاسے
لگتی ہے مجھے آپ کی ہر بات ، ستمگر
ٹھہرے ہوئے بادل ہیں مری آنکھ کی چھت پر
اب ڈر ہے کہ ہو جائے نہ برسات ، ستمگر
پھر ساری عمر ہم بھی گزاریں گے اکیلے
گر ہم کو ملا اب نہ ترا ساتھ ، ستمگر
مغرب کی یہ تقلید کہیں مار نہ ڈالے
آنکھوں سے لگاؤ نہ یہاں گھات ، ستمگر
شمہ وہ محبت کی عبادت میں تو خوش ہے
لگتی ہے بری اس کو مری ذات ، ستمگر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






