ماں بات کی جان اور ان کی دلاری تھی

Poet: ZULFIQAR ALI BUKHARI By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, RAWALPINDI

ماں بات کی جان اور ان کی دلاری تھی
بہن بھائیوں کو بھی بڑی پیاری تھی
سب کی آنکھوں کا تارہ تھی
سب کو ہنساتی تھی، ہنستی تھی
سب کے وہ کام آتی تھی
درد بھی سب کا وہ سہتی تھی
یہ تیرے روشن چہرے کا آج کیا ہوا
تیرے خاموش لبوں،بند آنکھوں نے
سب کو بس نم آنکھوں سے رلایا ہے
آج نو نے کیسا رنج میں ڈالا ہے
چڑیا جیسی چہکنے،جگنو جیسی دمکتی مسکان رکھنے والی
آج سب سنہری یادوں کے
دئے جلتے ہوئے ہمارے لئے
چھوڑکو وہ سب اپنے
ایک نئے دیس چلی ہے
ہمیں تو بس
غمگین کر چلی ہے

(اپنی ہردلعزیز بھانجی کی وفات پر لکھی گئی اک تحریر)

Rate it:
Views: 532
26 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL