ماں بیٹا، اور چاند ﴿ایک مکالمہ ماں ، بیٹا اور چاند ایک مکالمہ
Poet: azharm By: Azhar, Dohaکہا اک دن یہ اماں نے، کہ دلہن چاند سی لاؤں
جگر کے لخت اے میرے، ترا سہرا سجا پاؤں
کہا میں نے کہ دلہن چاند سی چندا کو بر مانے
مگر میں عام سا لڑکا، لگوں گا دیکھ شرمانے
سُنو ماں عام سی لڑکی ، برابر میں جو آئی ہے
نہیں وہ چاند سی لیکن، محبت آزمائی ہے
مجھے وہ چاند جیسی روشنی تو دے نہ پائے گی
مگر روٹی یہ سوکھی ساتھ میرے بیٹھ کھائے گی
اگر سمجھو مناسب ماں اُسے دلہن بنا لاؤ
سنہری چاند سی پوشاک میں اُس کو سجا لاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






