ماں کی دعا
Poet: یاسین سامیؔ By: یاسین سامیؔ, Kuwaitزندگی کی مری ابتدا میری ماں کی دعا
زندگی کی مری انتہا میری ماں کی دعا
میں گناہوں کا پتلا، مگر سن لے میرے خدا
ہے مری ایک ہی التجا میری ماں کی دعا
آتی ہے جب کبھی زندگی میں مصیبت کوئی
میرا بن جاتی ہے آسرا میری ماں کی دعا
ماں کے قدموں کے نیچے ہے جنت کا دروازہ وا
آرہی ہے مجھے اک صدا میری ماں کی دعا
دل مرا شاد رہتا ہے، آنکھوں میں میری چمک
کان میں گونجتی ہے سدا میری ماں کی دعا
عالمِ مدہوشی میں، میں کھو جاتا ہوں ہر ادا
یاد رہتی ہے اک ہی ادا، میری ماں کی دعا
میری آنکھوں میں تاریکی پھیلی ہوئی ہے مگر
تیرگئی شب میں ہے اک ضیا میری ماں کی دعا
مشکلوں کا سفر ہے، کٹھن ہے بہت راہ بھی
پر نہیں غم، ہے جو زاد راہ میری ماں کی دعا
یا الٰہی مری اک تمنا ہے بس ایک ہی
ہو مری زندگی کی عطا میری ماں کی دعا
ہر دعا مانگتی ہے مری ماں محبت سے تب
ٹال دیتی ہے ہر اک بلا میری ماں کی دعا
یوں تو گلشن سے خوشبو مہکتی ہے ساری مگر
ایک خوشبو ہے سب سے جدا میری ماں کی دعا
جب کبھی ڈوبنے لگتی ہے کشتی منجدھار میں
سنتا ہے اس سمے بھی خدا میری ماں کی دعا
عارضی ہے بقا اس جہاں میں سنو سامیؔ جی
سرمدی ہے خدا کی رِضا میری ماں کی دعا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






