ماں کی عظمت
Poet: Bakhtiar Nasir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreماں کی عظمت کریں کیسے بیاں
اس کا معترف ہے سارا جہاں
اولاد کو جو بہت محبوب ہے
مثال ممتا تو چٹانوں سے منسوب ہے
بچوں کا دکھ نہ دیکھ پائے
ان کے سو سو ناز اٹھائے
بچوں کی ہے پرواہ خود دکھی ہے
خدا نے کیا شان رکھی ہے
کئ اکابر نے کیا اظہار خیال
یہ جذبہ ہے جگ میں بے مثال
ماں ک دعا تو لینی چاہئیے
اس کی خدمت بس کرنی چاہئیے
ناصر کا ہے بس یہی پیام
ماں کی چاہئیے اطاعت ہر گام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






