مجبُوری کی ایک رات

Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

مجبُوری کی ایک رات
ہاں اب تم بھی
اپنے سارے وعدوں
اورٹھنڈک پہنچانے والی باتوں کے ہمراہ
مجھے پیاسا ہی رکھو گے
یہ جذبے میں بھیگی ہوئی آواز
میرے ماتھے کو جتنی بار چھوئے گی
اس کی تپش بڑھ جائے گی
آہستہ آہستہ
میرے تن پر ہونے اورپھسلنے والی
یہ بارش
یہ آگ
جس کی ٹھنڈک
جس کی حدت
اب بھی تمہاری پوروں میں ہے
میرے شانوں پر سر رکھّے
تم جو یُوں آنکھیں موندے کچھ سوچتے ہو
اس لمحے اس چہرے پر
کیسی سیرابی کیا آسودگی تیر رہی ہے
میں نادم ہوں
یہ کیفیت
تمہیں میرے لہجے اورمیرے چہرے میں
کبھی نظر نہیں آئی
جان
تمہیں شاید نہ خبر ہو
بعض محبتّیں
اپنے بلڈگروپ میں
" او منفی" ہوتی ہیں

Rate it:
Views: 468
01 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL