مجبُوری کی ایک رات
Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمجبُوری کی ایک رات
ہاں اب تم بھی
اپنے سارے وعدوں
اورٹھنڈک پہنچانے والی باتوں کے ہمراہ
مجھے پیاسا ہی رکھو گے
یہ جذبے میں بھیگی ہوئی آواز
میرے ماتھے کو جتنی بار چھوئے گی
اس کی تپش بڑھ جائے گی
آہستہ آہستہ
میرے تن پر ہونے اورپھسلنے والی
یہ بارش
یہ آگ
جس کی ٹھنڈک
جس کی حدت
اب بھی تمہاری پوروں میں ہے
میرے شانوں پر سر رکھّے
تم جو یُوں آنکھیں موندے کچھ سوچتے ہو
اس لمحے اس چہرے پر
کیسی سیرابی کیا آسودگی تیر رہی ہے
میں نادم ہوں
یہ کیفیت
تمہیں میرے لہجے اورمیرے چہرے میں
کبھی نظر نہیں آئی
جان
تمہیں شاید نہ خبر ہو
بعض محبتّیں
اپنے بلڈگروپ میں
" او منفی" ہوتی ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






