مجھ خود پر ایک کتاب لکھنی تھی

Poet: Saudi Arabia By: AF(Lucky) , Saudi Arabia

تمام عمر عذاب لکھنی تھی
مجھے تو اپنی قسمت خراب لکھنی تھی

کیسے ٹوٹے میرے خوابوں کے گھر
مجھ خود پر ایک کتاب لکھنی تھی

پیام الفت نے زخمی کر دیا دل میرا
مجھے تو لفظ لفظ داستان لکھنی تھی

کیسے بدلتے ہیں لوگ چہرے
مجھے تو دنیا پر مثال لکھنی تھی

وہ امیر تھا کسی امیر شہر میں رہنے والا
مجھے تو فقط اپنی اوقات لکھنی تھی

زمانے کا ڈر تھا ُاسے شاید لکی
مجھے تو آندھیوں میں اپنی ذات لکھنی تھی

محفل میں چراغا ہو گیا تمہارے لیے
مجھے اپنے لیے غم کی سوغات لکھنی تھی

لوگ کہتے ہیں مر کے پا لو گئے جنت کو
مجھے تو راہ میں آتی لمبی ُپرصراط لکھنی تھی

Rate it:
Views: 612
22 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL