مجھ سے بھی درد دل کا مداوا نہ کر ابھی
Poet: washma khan washma By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaمجھ سے بھی درد دل کا مداوا نہ کر ابھی
جینے کا مجھ سے بھی کوئی دعوٰی نہ کر ابھی
شاہد مرے نصیب میں تیرہ شبی رہے
دل کے چراغ سے جو اجالا نہ کر ابھی
اپنے لہو سے تیری بچاؤں گی زندگی
وعدہ مرے طبیب کا ایفا نہ کر ابھی
اس نے مری نگاہ میں دیکھا ہے اپنا پیار
لیکن کسی طرح سےاندھیرا نہ کر ابھی
اس کو ہے کیا پتا کہ خزائیں بھی ہیں امر
آیا ہے ملنے آج بہانہ نہ کر ابھی
نظروں کے آسماں سے میں گر تو پڑی مگر
سوچا تھا اس نے جو وہ تماشا نہ کر ابھی
ملتی نہیں ہے منزلِ مقصود جب تلک
مجھ سے کبھی ضمیر کا سودا نہ کر ابھی
ٹھہرو ذرا میں روح کی چادر سمیٹ لوں
تیرے بغیر کچھ نہیں تنہا نہ کر ابھی
میں نے نکلنا بار ہا چاہا مگر یہاں
چشمِ خیال میں ترا گریہ نہ کر ابھی
ڈستا رہا ہے سانپ کی صورت حیات کو
وشمہ یہ میرے پاؤں کی پیڑیا نہ کر ابھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






