مجھ سے ملنے آۓ وہ سہیلیوں کو چھوڑ کر

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

مجھ سے ملنے آۓ وہ سہیلیوں کو چھوڑ کر
بات بھی کرے کبھی پہیلیوں کو چھوڑ کر

دربدر جو پھر رہا ہوں کیا ملا آوارگی میں
اپنے گھر , مکان اور حویلیوں کو چھوڑ کر

قید کر کے ان پہ کوئ ظلم تو کیا نہ تھا
کس لیۓ رنجیدہ ہو تم تتلیوں کو چھوڑ کر

سوچتا ہوں صحبتیں نئ بنانی ہی نا تھیں
اپنے سب پرانے یار ? بیلیوں کو چھوڑ کر

قبر نے نجات ہی دلا دی سب گناہوں سے
ٹھیک ہوں میں اب گناہ کی ریلیوں کو چھوڑ کر

باقر جتنے پھول بھی کھلے ہیں غنچہء دل میں
سارے توڑ لو مگر چمبیلیوں کو چھوڑ کر

Rate it:
Views: 405
30 Mar, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL