مجھ سے ملنے وہ آئینگے کسی رات
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryمجھ سے ملنے وہ آئینگے کسی رات۔
ہوجائے گئی ماہ نور میری عام سی ذات
گم ہوجائنگے وہ میرے ضیا پاش چہرے میں
میری بھی ہوجائے گی اسی بہانے خود سے ملاقات
میں بختاور ہوں یا وہ ہیں خوش نصیب
اس کا فیصلہ نہ کرپائینگے ہم دونوںصدیوں کے بھی بعد
یہ جنون عشق ہے قاتل ہے یا ان کی ادا
اسی مخمصے میں گزر نہ جائے یہ ملن کی رات
روک لی ہے اس نے سانس اپنی دیکھ کر میرا جلوہ بے باک
ہوش وخرو بھول بیٹھے ہیں زمانے کے بعد میرے جناب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






