مجھ سے نہ رونےرلانے کی بات کر
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAمجھ سے نہ رونے رلانے کی بات کر
اگر کرنی ہے تو دل لگانے کی بات کر
ہم لوگ پہلےہی تیرے غم کےمارے ہیں
ہم سےاور نہ آنسو بہانے کی بات کر
حیلے بہانے تو بہت ہو چکے اےدوست
جتنا جلد ہو میرےپاس آنے کی بات کر
زندگی سےہم نےبہت کچھ سیکھاہے
اب تو بھی نہ ہمیں سمجھانےکی بات کر
ہمیں تو ہر روز جہنم سےڈراتےہو واعظ
کبھی خود صراط مستقیم پہ آنےکی بات کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






