مجھ سے پرسوں کا تذکرہ
Poet: Asif Shaaki By: Asif Shaaki, Karachiکیا کبھی کسی نے مجھے اتنی گہرائی سے چاہا ہو گا
اگر ہاں ! تو میرے لیے یہ اک معجزہ ہو گا
کسی نے جب بھی مجھ سے اظہار کے بارے میں سوچا
جانتا ہوں کہ شیطان نے اسے خوب روکا ہوگا
جو بن رہا تھا تماشا سر راہ تیری محبت میں، میں
ممکن ہے کہ حسرت بھری نگاہوں سے کسی نے دیکھا ہوگا
جو تو کر رہا ہے ابھی مجھ سے پرسوں کا تذکرہ
لگتا ہے کہ ہر پل تو نے مجھے ہی سوچا ہو گا
جس آہٹ پہ تم سارے خواب سجاءے بیٹھے ہو شاکی
وہ کچھ نہیں بس اک تیز ہوا کا جھونکا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






