مجھ پہ اترے جو صحیفے ہیں صبا دیتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامجھ پہ اترے جو صحیفے ہیں صبا دیتی ہے
اس کی یادوں کے سبھی باب لکھا دیتی ہے
میری سانسوں سے مہکتی ہیں وفا کی کلیاں
میری آنکھوں سے محبت کودکھا دیتی ہے
مہر و انجم ہوں یا ہو چاند یہ آنگن میں مرے
میرے افکار کی راہوں سے ہٹا دیتی ہے
درد کے ڈھیر میں کچھ بھی نہ بچے گا لیکن
اپنا یہ ساتھ محبت کا نبھا دیتی ہے
ایسے بے جان کھلاڑی سے ہمیں کیا لینا
جس کے اندر سے فقط آگ جلا دیتی ہے
آج اخلاص و وفا کی تو یہاں قدر نہیں
مال و دولت کے سبھی باب سجا دیتی ہے
جن کو انداز محبت تھے سکھائے وشمہ
وہ تو خطروں کو مری جان ملا دیتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






