مجھ پہ بس اتنی عنایت مرے مولا کر دے
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, Mississauga, Canadaمجھ پہ بس اتنی عنا یت مرِے مولا کر دے
میرے بکھرے ہوئے ہر خواب کو یکجا کر دے
چھوُ کے ہونٹوں سے مرِے درد کے رخساروں کو
پھر سے میرے دلِ بیمار کو اچھا کر دے
آ کے پھر مجھکو ستا ، ایسا کوئی دکھ دے جا
جو ترے غم میں مجھے اور بھی آدھا کر دے
اپنی سانسوں سے بڑھا دے مرِے احساس کی آ نچ
اپنے ہونٹوں سے مرِی پیاس کو دریا کر دے
تو ہے اِعجاز ، کراماَت ہے دنیا تیری
میں تو پتھر ہوں ، مجھے چھوُ کے نگینہ کردے
کاش اُبھرے کبھی آئینے میں یوں عکس ترِا
جو تری آ نکھ کو خود محوِ تماشہ کر دے
بے رخی ایسی بھی کیا چھوڑ کے جانے والے
جاتے جاتے تو مرِا زخم ہی تازہ کر دے
جائے اور جا کے کوئی اُسکو بتا آ ئے کہ وہ
میں پریشاں ہوں، ذرا زلف کا سایہ کر دے
عشق پہ ایسا کڑا وقت نہ آ ئے یارب
جو مرِی ذات کو محرومِ تمنا کر دے
اے خدا تجھ میں نظر آ ئے مجھے رَب اَلناس
تو مرِی سوچ کو کچھ اسقدر سادہ کر دے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






