مجھ کو زنداں میں مارا پتھر کا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکچھ نہ کہیے مرے مقدر کا
مجھ کو زنداں میں مارا پتھر کا
ہو مجسم نہ دے دعا کو اثر
پھر تجھے ہے خدا سے اب ڈر کا
میری اچھائی کی گواہی ہو
کہہ رہا ہے مجھے وہ خود سر کا
دیر تک جو رقیب بیٹھا رہا
اس کو اچھا سنایا ہے گھر کا
آ رزو ہو نہ زندگی کی کوئی
کیوں نہ پھر زہر دے نظر بھر کا
مانا دشمن سے تو شکایت ہے
دوست ہو گر عدو تو خنجر کا
عہد حاضر کا ہی نہیں نغمہ
مجھکو ہر دور کےیہ منظر کا
دل زباں پر سجائے پھرتی ہوں
کھوٹ رکھتی نہیں ستمگر کا
تازگی میں مثال ہے وشمہ
زخم ہے دیکھیے مقدر کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






