مجھے اب ڈر سا لگتا ہے
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی. By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد، پاکستان.مجھے اب ڈر سا لگتا ہے
موسم بدلنے سے
کہ چاہے دھوپ ہو یا بارش
عادت ہو ہی جاتی ہے
کسی کے ساتھ سے جیسے
محبت ہو ہی جاتی ہے
اور موسم بدلیں تو
محبت روٹھ جاتی ہے
خزاں میں جیسے کوئی
پھول ٹوٹ جاتا ہے
کسی کا عکس بھی جیسے
ذہن سے روٹھ جاتا ہے
کسی کے روٹھ جانے سے
مجھے اب ڈر سا لگتا ہے!!
بکھرنے سے اجڑنے سے
تم سے مل کے بچھڑنے سے
مجھے اب ڈر سا لگتا ہے
وقت کے بدلنے سے
درد کے ابھرنے سے
کسی سے ملنے ملانے سے
یادوں کے آنے سے
مجھے اب ڈر سا لگتا ہے!!
کہ بہت حساس ہوں شائد
یا تم سے مانوس ہوں شائد
مگر عنبر رونے سے
اب تم کو کھونے سے
مجھے اب ڈر سا لگتا ہے
تم سے بچھڑنے سے!!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






