مجھے اقرار ہے کہ۔۔۔ مجھکو انتظار نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreتیرے وعدوں پہ اعتبار کر لوں۔۔۔؟
کیا جو تو نے وہ اقرار کر لوں۔۔۔؟
مگر کیسے ذرا یہ بھی بتا دو
کروں تو کیا کروں مجھے سمجھا دو
بارھا تیرے ارادوں پہ اعتبار کیا
ایک دو بار نہیں یار بار بار کیا
ایک بھی وعدہ مگر تم سے وفا ہو نہ سکا
اور کوئی بھی ارادہ تو ادا ہو نہ سکا
ایسی صورت میں کیسے مان لوں تیری باتیں
بھلاؤں کیسے سارے دِن تمام وہ راتیں
جو میں نے تیرے انتظار میں تنہا کاٹیں
اپنے دِل سے ہی اپنی ساری حسرتیں بانٹیں
ساتھ تیرا مجھے درکار رہا جب جاناں۔۔۔!
اپنے اطراف کا خالی پایا تب جاناں۔۔۔!
اب مجھے اور کوئی خواب نہ دِکھاؤ تم
جھوٹی باتوں سے مجھے اور نہ بہلاؤ تم
معاف کرنا مجھے اب کوئی اعتبار نہیں
مجھے اقرار ہے کہ مجھ کو انتظار نہیں
اب نہیں کہنا اعتبار کر لوں
اب نہیں کہنا کہ اقرار کر لوں
تیرے وعدوں پہ اعتبار کر لوں۔۔۔؟
کیا جو تو نے وہ اقرار کر لوں۔۔۔؟
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






