مجھے اِتنا کہنا تھا

Poet: کنول نوید By: کنول نوید, karachi

مجھے اِتنا کہنا تھا

مجھے اِتنا کہنا تھا
موقع ایک صفائی کا
قید سے رہائی کا
مجھے بھی ملنا چاہیے نا
پھر فیصلہ صادر کر کے
جہاں چاہے چلے جانا

مجھے اِتنا کہنا تھا

میں جلدی جلدی نہیں کہہ پاتی
کہ الفاظ کے انتخاب میں
سوالوں کے جواب میں
مجھے وقت لگتا ہے
مگر اس سے اگر سمجھ جاو
فرد جرم عائد نہیں ہوتا
ثابت شائد نہیں ہوتا
کہ میں مجرم ہوں

مجھے اِتنا کہنا تھا

مگر میں نہ کہہ پائی
کوئی بھی نہیں کہہ پاتا
جس سے غلطی ہوتی ہے
محبت سی زمانے میں
مزا خوب اُٹھاتے ہیں
لوگ پھر مزا ستانے میں
وہ پھر خوموش رہتا ہے
دل ہی دل میں کہتا ہے

مجھے اِتنا کہنا تھا
مجھے اِتنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Rate it:
Views: 698
03 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL