مجھے اک پل کو دیکھا تھا
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaتیری آنکھوں سی آنکھیں
آج اک چہرے پہ دیکھی ہیں
وہی رنگت بناوٹ
اور ویسی بے رُخی اُن میں
بچھڑتے وقت جو میں نے
تیری آنکھوں میں دیکھی تھی
تیری آنکھوں سی آنکھوں نے
مجھے اک پل کو دیکھا تھا
وہ پل اک عام سا پل تھا
مگر اس عام سے پل میں
پرانے کتنے منظر، کتنے موسم
میں نے دیکھے تھے
مگر ان جھیل آنکھوں میں
شناسائی نھیں جاگی
میری آنکھیں
تیری آنکھوں سی آنکھوں کے لیے
کب خاص آنکھیں تھیں
مگر میں کیا کروں دل کا
جو اب یہ یاد رکھے گا
تیری آنکھوں سی آنکھیں
میں نے اک چہرے پہ دیکھی تھیں
پھر اس کے بعد کتنے دن
میری آنکھوں میں ساون تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






