مجھے بھی خبر ہے میں کیا ہو گیا ہوں

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhang

مجھے بھی خبر ہے میں کیا ہو گیا ہوں
میں سب کی نظر میں برا ہو گیا ہوں

مجھے میری باتیں بھی چبھنے لگی ہیں
میں اب کس قَدَر چڑچڑا ہو گیا ہوں

مرے لفظ چبھتے ہیں نشتر کی مانند
کہ میں اب بہت کھردرا ہو گیا ہوں

مجھے لوگ ملنے سے ڈرتے ہیں ایسے
کہ میں کوئی جیسے وبا ہو گیا ہوں

مجھے اب کسی سے نہیں خوف کوئی
کہ میں اب سبھی سے جدا ہو گیا ہوں

بظاہر تو با حوصلہ جی رہا ہوں
میں اندر سے چاہے فنا ہو گیا ہوں

نئے جال میرے عدو بُن رہے ہیں
کہ میں قید سے پھر رہا ہو گیا ہوں

میں خود جان جوکھم میں ڈالے ہوں پھرتا
کہ میں اب بہت سر پھرا ہو گیا ہوں

مجھے دوڑتا پھر سے دیکھیں گے حاسد
کہ میں گر کے پھر سے کھڑا ہو گیا ہوں

Rate it:
Views: 346
02 Jul, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL