مجھے تجھ سے محبت ہے
Poet: Sobia By: Sobia Imran, multan pakistanمجھے تجھ سے محبت ہے
جتنی سورج کو حدت سے
جذبے کو شدت سے
ساگر کو روانی سے
ابر کو پانی سے
رات کو اندھیرے سے
صبح کو سویرے سے
ماہی کو سمندر سے
ساقی کو جام سے
موتی کو سیپ سے
پروانے کو دیپ سے
مجھے تیری طلب ہے یوں
جیسے کلی کو کھلنے سے
بچھڑے کو ملنے سے
ستاروں کو قمر کی
پتوں کو شجر کی
آوارہ کو گھر کی
وحشی کو جنوں کی
زاہد کو سکون کی
ولی کو خدا کی
تیر کو کمان کی
پتھر کو زبان کی
اجنبی کو پہچان کی
جیسے
جسم کو جان کی
بسں
مجھے تجھ سے محبت ہے اتنی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






