مجھے تم سوچتی ہو کیا
Poet: انور جمال انور By: انور جمال انور , karachiوہی میں ہوں وہی جذبہ ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
وہی بے چین دل میرا ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
تمہیں دل سے بھلانے کیلئے کیا کیا کیا میں نے
مگر یہ ہو نہیں پایا ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
مجھے اب تک پرانے خواب ہی آتے ہیں جانے کیوں
تمہیں میں سوچتا ہوں کیا ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
یہ زلفیں کس کی ہیں بکھری ہوئی میرے خیالوں پر
یہ کس کا قرب ہے ایسا ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
یہ کس نے ہونٹ رکھے تھے مرے ہونٹوں پہ دھیرے سے
میں کیسے نیند سے جاگا ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
یہ کس کی گرم سانسیں تھیں جو مجھ سے آ کے ٹکرائیں
یہ تم تھیں یا کوئی دھوکہ ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
تمہیں میں دیکھتا ہوں کیا ابھی تک اپنے ماضی سے
یہ میرا حال ہے کیسا ، مجھے تم سوچتی ہو کیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






