مجھے تم سے محبت ہے
Poet: Noman Nayyir Kulachvi By: Noman Nayyir Kulachvi, Lahoreمجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہے
تمہیں احساس ہو اس کا تمہیں جو پاس ہو اس کا
تو میری جان میرے نام تم اپنے سارے غم کر لو
کبھی سوچا ہے تم نے بھی؟ میں کتنا بے بس و مجبور رہتا ہوں
تمہی کو یاد کرتا ہوں اور بس تمہی کو یاد کرتا ہوں
میں سینے سے لگا لوں گا میں اپنے پاس رکھ لوں گا
تمہارے سارے دردوغم میں اپنی پونجی سمجھوں گا
تمہیں جو ہو نہ ہو مجھ سے مگر
مجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہے
میری رنگین سوچوں کا میری بے تاب حسرت کا
تو محور ہے تو مرکز ہے
مگر اب دیکھنا یہ ہے تجھے احساس کتنا ہے
فقط میری وفاؤں کا اور اپنی جفاؤ ں کا
مگر یہ بھی ضروری تو نہیں
تمہیں احسا س ہو اس کا تمہی کو پاس ہو اس کا
یہ میں نے کہہ دیا تجھ سے تمہیں جو ہو نہ ہو مجھ سے مگر
مجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






