مجھے تم سے پیار ہوا ہے
Poet: Shama Ansari By: Shama, Gujranwala(JWS)دودھ نہایا اُجلا ریشم اس شب کا چاند
بادل تارے اُسکو سلائیں
شیریں باتیں اُسکو سنائیں
جانے کیوں لگ رہا ہے
اُداس کچھ اس شب کا چاند
صبا سے مہکی ہوا ہے آئی
وہ بھی اس لمحے کی ہے سودائی
کچھ خواب میرے بھی جاگے ہیں
یہ جیسے ریشمی دھاگے ہیں
ڈر لگتا ہے ایسے لمحوں سے
جن لمحوں میں اُلجھی سوچ میری
کہیں خیال سے میرے بھاگا ہے
دیکھا تو معلوم پڑا
کئی راتوں سے وہ جاگا ہے
سب پھول تو اب سوئے ہوئے
کچھ دن بھر کے ہیں روئے ہوئے
اُس سے کرنی پیار کی باتیں ہیں
اب چھٹ گئی اندھیری راتیں ہیں
یوں رات کے اس پہر کس سے
باتیں کر رہا ہو گا میرا چاند
دل کرتا ان لمحوں کو مقید کر لوں
آنیوالی ہر مس کو تاکید کر دو
اس چاند کا کبھی اعتبار نہ کرنا
دل یوں اس پہ نثار نہ کرنا
چاہ کر کبھی اظہار نہ کرنا
کہ اے اس شب کے چاند مجھے
تم سے پیار ہوا ہے
مجھے تم سے پیار ہوا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







