مجھے تم یاد کر کے
Poet: ثقلین شاہ لارنسپوری By: Saqlain , Attockمجھے تم یاد کر کے
کیوں مشکل میں پڑتے ہو
میں وہ ہی اک شحص ہوں
جسے تم بھول کے
جو تم کو بھول کے
اپنے حصے کی زندگی گزار رہے ہیں
نہ تیرا مقصد مجھے پانا
نہ میرا مقصد تجھے پانا
میں تم پہ کیوں مرتا ہوں
تم مجھ پہ کیوں مرتے ہو
کیوں مشکل میں پڑتے ہو
کیوں مشکل میں پڑتے ہو
تمہارے آس پاس
کچھ لوگ رہتے ہیں
جو تم سےنہیں مخلص
تمہیں اپنا بھی کہتے ہیں
تم ان کے ھو چکے کب کے
پر میرے بن نہیں پائے
پر میں جب اکیلا تھا
مجھے تم یاد بہت آئے
محبت تم نے مجھ سے کی
زمانے سے کیوں ڈرتے ھو
کیوں مشکل میں پڑتے ہو
کیوں مشکل میں پڑتے ہو
ثقلین شاہ لارنسپوری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






