مجھے جس کی تمنا ہے

Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتان

مجھے جس کی تمنا ہے وہ راہوں پر نہیں ملتا
ہے ڈھونڈھا جس کو برسوں سے مجھے وہ در نہیں ملتا

یہ دنیا تو ہے چھوٹی سی یہاں ملتے ہیں بچھڑے بھی
مجھے لاکھوں ملے ہیں پر میرا دلبر نہیں ملتا

بڑی مشکل سے پہنچا ہوں میں تیرے شہر میں سنگدل
میں ہر کوچے سے گزرا ہوں پہ تیرا گھر نہیں ملتا

میں سنتا ہوں کہ غیروں سے گلے لگ لگ کے ملتا ہے
بڑابے درد قاتل ہے ہمیں آ کر نہیں ملتا

تم سمجھو یا نہیں سمجھو مگر ہے کھیل قسمت کا
کبھی کھو کر بھی مل جائے کبھی پا کر نہیں ملتا

امن اس دور میں دیکھو محبت ریزہ ریزہ ہے
محبت پہ جو کٹ جائے اب ایسا سر نہیں ملتا

Rate it:
Views: 684
26 Jul, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL