مجھے خاکداں میں گرایا کسی نے

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

مجھے خاکداں میں گرایا کسی نے
کوئی پاپ تھا جو چھپایا کسی نے

ٹِھٹَھر کےمری جان لب پر جو آئی
مجھے دے کے چادر بچایا کسی نے

دعا نکلی میرے یہ معصوم دل سے
چلو شکر کھانا بچایا کسی نے

جو روٹی اٹھاتے گرفتہ ہوا میں
مرا ہاتھ دایاں جلایا کسی نے

یہی میں نے پہچان اپنی بنا لی
جو بے نام کہہ کر بلایا کسی نے

میں اک رہگزر پہ جو سویا ہوا تھا
مجھے پتھروں سے جگایا کسی نے

میں پھر جنگلوں سے پلٹ کر نہ آیا
مجھے شہر میں جو ستایا کسی نے

گِدھوں اور چِیلوں نے آ کر سنبھالا
جو لاشہ مرا نہ اٹھایا کسی نے

Rate it:
Views: 241
26 Dec, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL