مجھے درد دے میں وہ سہ لوں گا
Poet: Malal Khan By: Malal Khan, Swatمجھے درد دے میں وہ سہ لوں گا
میں تو عادی ہو اسے سہنے کا
مجھے کر جدا کوئی غم نھیں
میں تو عادی ہو اسے سہنے کا
جو ہے چل پڑے راہ عشق پےہم
اس راہ میں موڑنے کا قدم نھیں
ہم جو کر پڑےعشق روح سے
ہمیں جسمو سےاب لگن نھیں
ہر درد کا ماتم ہی کیوں
مجھے مان ہے چپ رہ لوں گا
نھیں عشق وہ جو انکھ نم نہ ہو
مجھے کرنی ہے آنکھ نم میری
میں پاگل نہیں یہ میرا عشق ہے
میرا عشق ہی پاگل پن میری
میری آنکھوں میں تم دیکھ زرا
یہ سمندر کی لہرے تم
اس سے تم بھی پچھتاوگے
یھی لوٹ کے پھر اوگے
تو ملال ہے تو ملال کر
تمھے عشق ہے انکھیں لال کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






