مجھے ذرا یہ تو بتا دو
Poet: Badar Naseer By: Badar Naseer, lalamusaلوگ با توں سے کیو ں بدلتے ہیں
کہتے کچھ ہیں کر تے کچھ ہیں
وعدے کرتے ہیں ساتھ نبھانے کا
پھر خود ہی کہتے ہیں چھوڑ جانے کا
کیا دستور عشق میں یہی انصاف ہے
صیاد عشق بنا کر خو د پر کیف ہے
ہر لمحہ تیر ی یا د کیوں ستائے
تم تو بھو ل گئی پھر کیوں رولانے
دشت تنہائی دیمک کی طرح کھائے
کشش محبت اتنی کہ ہم بھا گ نہ پائے
تم نے اپنی نگاہوں میں اتر نے دیا کیوں
ہم اپنی سا نسو ں میں آہیں بھر ے کیوں
شمع جلے تو دید کی خا طر کیوں آئے پروانہ
تیری حسین سیرت کا ہوگیا کیوں بدر دیوانہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






