مجھے فرست ملی تو ایک خط لکھونگی
Poet: عنزا عباس By: عنزا عباس, Karachiمجھے فرست ملی تو ایک خط لکھونگی
اپنی زندگی کی داستان کو ایک کاغذ پہ رکھونگی
زندگی خوبصورت کتنی تھی وہ سب لکھونگی
غم کتنے اس دنیا نے دیے اسے ایک کاغذ پر لکھونگی۔
کتنے مخلص لوگ ملے انکا اخلاق لکھونگی
اور کتنوں نے اپنے مطلب کے لیے استمال کرا انکا حساب لکھونگی۔
جھوٹی محبت پر کس طرح آندھا بھروسہ کرا وہ اپنی بیوقوفیاں لکھونگی
سچی محبت سے کس طرح سے ایمان اٹھ گیا وہ نقصان لکھونگی۔
کس طرح تنہائی میں روئی ہوں وہ سب لکھونگی،
کس ترہ محفل میں دکھ چھپائے ہیں وہ ہنر لکھونگی۔
زندگی کتنی برباد کری ہے وہ ہسا لکھونگی
اور کتنی باقی بچی ہے وہ نعمت لکھونگی۔
ایک آنکھ سے گرا آنسوؤں کا قطرا اس کے نام لکھونگی
کتنا جھوٹا مسکرائی ہو اس مسکراہٹ کے پیچھے کا غم لکھو گے۔
لکھونگی یہ بھی کے کتنے غم ملے
آخر میں ملے سبک پر خدا کا شکر لکھونگی۔
پھر سوچتی ہوں کی اس کاغذ پر کیسے اپنے جذبات لکھونگی،
کسے دکھ، درد، غم، سبک اور احساسات لکھونگی۔
پھر بھی زندگی کا اپنی ایک ایک ہسا لکھونگی
مجھے فرست ملی تو تمہیں ایک خط لکھونگی۔
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






