مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو

Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKI

مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو
مجھے تم مت پڑھو کیوں کہ
اُداسی ہوں الم ہوں غم زدہ تحریر ہوں میں تو
جسے لکھا گیا رنجیدہ عالم میں
مجھے تم مت سنو لوگو کہ میں تو
کرب کے موسم کا نغمہ ہوں
دکھی بلبل کی آوازوں میں شامل ہوں
کسی ٹوٹے ہوئے دل سے نکلتی آہ ہوں میں تو
کئی روتی ہوئی آنکھوں کا آنسو ہوں
مجھے کیوں دیکھتے ہو تم
میں پتلی ہوں ، تماشا ہوں
میں لاشہ ہوں
غموں کو درد کو دل میں چھپائے جی رہا ہوں میں
مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو
کہ مجھ کو اُس گھڑی لکھا گیا
جب کاتبِ تحریر کی آنکھوں سے اشکوں کی روانی تھی
وہ خود حیران تھا ، غمگین تھا اور دل گرفتہ تھا
مجھے پڑھتے ہوئے لوگو
مجھے پڑھ کر کہیں تم مبتلا غم میں نہ ہو جاؤ
مجھے تم مت پڑھو لوگو

Rate it:
Views: 750
09 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL