یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
Poet: شاہد زکی By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIیار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
نیک لوگوں ميں مجھے نیک گنا جاتا ہے
اور گنہگار ، گنہگار سمجھتے ہیں مجھے
کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جاۓ
آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے
روشنی سرحدوں کے پار بھی پہنچاتا ہوں
ہم وطن اس لے غدّار سمجھتے ہیں مجھے
وہ جو اس پار ہیں ان کے لے اس پار ہوں میں
یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے
میں بدلتے ہوۓ حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
جرم یہ ہے کہ ان اندھوں ميں ہوں آنکھوں والا
اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے
ميں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور یہ لوگ پراسرار سمجھتے ہیں مجھے
چھاؤں دینے سے گریزاں ہیں کچھ ایسے جیسے
پیڑ سورج کا طرفدار سمجھتے ہیں مجھے
پاؤں ميں خار لے باغ میں بیٹھا ہوا ہوں
پھول خوشبو کا گرفتار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں
اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے
لاش کی طرح سر _ آب ہوں میں اور شاہد
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






