مجھے کوئی دعا دے یا بد دعا دے دے
Poet: Khalid Pervez By: Khalid Pervez, Pasrur, Saukin Windمجھے کوئی دعا دے یا بد دعا دے دے
بس تو اپنی محبت کا اک لمحہ دے دے
سمیٹ لوں آنکھوں سے بکھرے ہوئے موتی
اندھیری راہوں میں حسن کا اجالا دے دے
کوئی بتاتا نہیں کہ میری منزل ہے کہاں
میرے کھوئے ہوئے گھر کا پتہ دے دے
نہ کر یقیں وعدوں پہ اپنی وفا کو دیکھ
اپنے ہاتھ سے میرے ہاتھوں کو رنگِ حنا دے دے
ٹوٹ کر بکھر جاؤں یا مہکا دوں کوئی چمن
بہار کے پھولوں سی کوئی ادا دے دے
مانگتا رہوں میں ہر گھڑی تیری محبت
بادشاہ نہیں مجھ کو رتبہ گدا دے دے
دل میں نہ رہ جائے کوئی ارمان خالد
بس اپنی محبت کا اک لمحہ دے دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






