مجھے ہوتا ہے کبھی کبھار غم زمانے کو دیکھ کر
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمجھے ہوتا ہے کبھی کبھار غم زمانے کو دیکھ کر
ہو جاتا ہے دل و جاں نم زمانے کو دیکھ کر
وحشیت ہی وحشیت ہے ہر سُو اب تو
سوچتا ہوں کیا انسان ہیں ہم زمانے کو دیکھ کر
حیوان ہیں ہم سے کمتر مجھے خود پہ ناز تھا
توٹے ہیں مگر آج سارے بھرم زمانے کو دیکھ کر
میرے گھر میں آئے روشنی جلے کسی کا گھر تو کیا
سیکھے میں نے کیا کیا جرم زمانے کو دیکھ کر
بہتر تھا اس سے کہ ہوتے صرف فرشتے ہی
خدائی بھی آج ہوئی ہے پُرنم زمانے کو دیکھ کر
ہر ہاتھ ہے خون آلودہ ، ہر خیال مجرم ہے
نہیں آتی مگر ہمیں کوئی شرم زمانے کو دیکھ کر
ہر کوئی رو رہا ہے دوسروں کی خوشیوں پہ
نہالؔ لگا ہے عجیب سا ماتم زمانے کو دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






