مجھے ہےعشق گلابو ں سے اور کتابوں سے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمجھے ہےعشق گلابو ں سے اور کتابوں سے
گذُر چکی ہوں اگرچہ کییٔ عذابوں سے
جو نوکِ خار پہ رہ کے بھی مسکراتے ہیں
ملا ہے عزم نیا مجھ کو اُن گلابوں سے
جو چپکے چپکے مِرے دھیان میں چمکتے ہیں
ملے گی روشنی مجھ کو اُن آفتابوں سے
ہم اپنے آپ کو اب اور کتنا دھوکا دیں ؟
بجھی ہے پیاس کسی کی کہاں سرابوں سے
ہیں زندگی کے کییٔ اور مرحلے باقی
تراش کویٔ تصور نہ میرے خوابوں سے
میں کیا سوال کروں، جھوٹ ہے تری عادت
نہ ہوگی میری تشفی ترے جوابوں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






