محبت
Poet: By: Amna kayani, Rawalpindiمحبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے
کھبی دل سوز لمحوں سے کبھی بے کار رسموں سے
کبھی تقدیر والوں سے کبھی مجبور قسموں سے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کبھی یہ پھول جیسی ہے کبھی یہ دھول جیسی ہے
کبھی یہ چاند جیسی ہے کبھی یہ دھوپ جیسی ہے
کبھی مسرور کرتی ہے کبھی یہ روگ دیتی ہے
کسی کا چین بنتی ہے کسی کو رلا دیتی ہے
کبھی لے پا ر جاتی ہے کبھی یہ مار جاتی ہے
محبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







