محبت
Poet: Prof Niamat Ali Murtazai By: Prof Niamat Ali Murtazai, Kasur محبت بنائے محل تاج جیسے
محبت میں گذرے ہیں کل آج جیسے
محبت ہی امبر ،محبت ہی دھرتی
محبت سے شبنم گلوں پر ہے گرتی
محبت حرم ہے، محبت دھرم ہے
محبت کی ہر سو ہی نظرِ کرم ہے
محبت وصل ہے، محبت جدائی
کبھی راز دل کا، کبھی یہ دھائی
محبت ہی آنسو، محبت تبسم
کبھی جانِ ہستی، کبھی یہ نرا سم
محبت بہاروں کی روحِ رواں ہے
کبھی یہ پپیہے کی آہ وفغاں ہے
محبت قصیدہ، محبت غزل ہے
کبھی نوحہ غم کا ، کبھی یہ ہزل ہے
محبت ہی قہقہہ، ہی آہیں
گل و خار رکھیں محبت کی راہیں
محبت پرندے کی چونچ کا دنکا
محبت شجر پر رہائش کا تنکا
محبت خدا ہے، محبت خدائی
محبت نہیں تو نہیں مرتضائیؔ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






