محبت
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreمحبت خواب جیسی ھے
جونہی آنکھیں مینچی تو
سپنے بکھرتے ہی چلے گئے
محبت محض فریب دل ھے
جونہی حقیقت عیاں ھوئ تو
ارمان ٹوٹتے ہی چلے گئے
محبت مانند ھے اُس پرندے کے
جونہی ذرا پنکھ کھولے تو
فاصلے اُڑان بھرتے ہی چلے گئے
محبت اک راز ھے لیکن
جونہی افشاں ہوا تو
حقیقی و مجازی کے پردے اُٹھتے ہی چلے گئے
محبت تو امر بیل ہی ھے
ہزاروں رنگ ہیں اس کے
ہزاروں ڈھنگ ہیں آس کے
سفر ھے یہ مکاں سے لا مکاں کا
اس جہاں سے اُس جہاں کا
محبت دلفریب فسانہ ھے
جسے چلتے ہی جانا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







