محبت
Poet: kanwal naveed By: کنول نوید, karachiچھ بتا رہے ہیں تجھ کو کچھ چھپا رہے ہیں ہم
تو بسا ہے دل میں تجھ کو یہ جتا رہے ہیں ہم
دل کی دلکشی عیاں ہو فقط دلبر کے واسطے
دل کے راستوں سے سب کو ہٹا رہے ہیں ہم
تیری خوشی میں خوش ہیں سب کچھ قبول ہے
تخم محبت اس وادی دل میں اب دبا رہے ہیں ہم
کانٹے تمام دامن میں لیے زخموں سے چورمگر
تیرے لیے تو گلابوں کو فقط بچھا رہے ہیں ہم
کیا ہوا کنول سب لوگ کیوں تھک گئے ہیں آج
خود کو خود ہی وثوق سے آزما رہے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






