محبت
Poet: Qaisar farooq By: Qaisar farooq, Faislabadمحبت جس شخص سے کر بیٹھا ہوں
اداٶں پہ جس کی مر بیٹھا ہوں
معصوم چہرے،پاکیزہ نظروں کا حاشیہ ہے
حسن پہ لکھی حسین غزلوں کا قافیہ ہے
وہ جو سب سے عجیب تر ہے
وہ جو خود سے حسین تر ہے
وہ جو خود ہی میں رہنے والا
نہ کچھ کسی سے کہنے والا
جھجھک کے آنچل,حیا کے پلوں سے لپٹا
دل میں میرے جو جی رہا ہے
بھلا کے اپنے چا ہنے والے کو
بڑی تسلی سے پی رہا ہے
میں جو اس پہ مرنے والا
نہ کسی سے ڈرنے والا
بہا کے آنسو عتاب عبرت
ہجر کی راتوں میں جلنے والا
کیا سدا ہی چپ رہوں گا؟
اسی ندھیرے میں گم رہو گا؟
ہجر کی راتوں کے بعد آخر
وصل کی راتوں کا نور ہوگا
وہ جو اب بچ رہا ہے مجھ سے
یہاں پہ اک دن ضرور ہوگا
دکھ کے بادل چھٹ ہی جاۓ گے
اس تسلی پہ جی رہا ہوں
اس کی گلی میں جو پٹا تھا
اسی گریباں کو سی رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






