محبت آوارہ پنچھی ہی تو ہے
Poet: Maria Rehmani By: Maria Rehmani, Kharianمحبت آوارہ پنچھی ہی تو ہے
جہ ٹھہرا رہے تو دل کا شجر آباد
جو اڑ جائے تو بڑا ویران
محبت مسافر ہی تو ہے
جو مل جائے تو دل کی گلیاں شادمان
جو کھو جائے تو بڑی سنسان
محبت تتلی ہی تو ہے
جو پھولوں کے اس نگر کبھی اس نگر
جس سے ہر خوشبو ہے مہکی مہکی
ہر پھول ہے اجلا اجلا
جو نہ ہو تو ہر خوشبو ہے بے خوشبو
ہر پھول ہے افسردہ افسردہ
محبت احساس ہی تو ہے
جس سے بنا ہے ہر رشتہ مضبوط
جو نہ ہو تو
ہر رشتہ ہے بے اماں بے یقیں
محبت سفر ہی تو ہے
جس سے قائم ہے مسافتوں کی گردش
جو نہ ہو تو
ہر رستہ ہے کھویا ہوا
ہر منزل ہے لا حاصل
محبت سانس ہی تو ہے
جو چلے تو زندگی
جو رک جائے تو
کچھ بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






