محبت اب بھی باقی ہے
Poet: Abrar Nadeem By: Zubair Bashir, Lahoreانا کی بات ہے ورنہ محبت اب بھی باقی ہے
اُسے میری مجھے اُس کی ضرورت اب بھی باقی ہے
کوئی مشکل اگر درپیش آئے لوٹ آنا تم
تمہارے واسطے دل میں عقیدت اب بھی باقی ہے
تیری پلکوں کی چلمن پر ستارے جھلملاتے ہیں
تیری آنکھوں میں ہلکی سی شرارت اب بھی باقی ہے
بلا کی سرد مہری ہے میری ہر بات میں لیکن
میرے سینے میں چاہت کی حرارت اب بھی باقی ہے
یہ کیا کھیلا ہے اُلٹا کھیل میرے ساتھ قسمت نے
سرِمنزل کھڑا ہوں اور مسافت اب بھی باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






